> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ رضا ہمدانی

رضا ہمدانی اردو، پشتو اور ہندکو کے نامور ادیب، شاعر اور صحافی رضا ہمدانی کا اصل نام مرزا رضا حسین تھا اور وہ 10 دسمبر 1910ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ رضا ہمدانی کی تصانیف میں اردو شعری مجموعے، صلیب فکر، رگ مینا اور سدرۃ المنتہیٰ کے علاوہ ہندکو شعری مجموعہ ترمے ترمے اور نثری کتب میں ادبیات سرحد، جمال الدین افغانی، چار بیتہ، مراۃ الاسلام، سائیں احمد علی پشاوری اور پشتو ادب اور تراجم میں پشتو افسانے، باز نامہ اور پشتو کی رزمیہ داستانیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فارغ بخاری کے اشتراک سے بھی کئی کتابیں مرتب کیں جن میں پٹھانوں کے رومان، اٹک کے اس پار، رحمن بابا کے افکار، خوشحال خاں خٹک کے افکار اور منتخب ادب کے نام سرفہرست ہیں۔  رضا ہمدانی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے انہیں 14اگست 1992ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔رضا ہمدانی  9جولائی 1994ء کوپشاور میں وفات پاگئے۔وہ پشاور میں قبرستان باغ زیدہ میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP