> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ نسیم حجازی

 نسیم حجازی اردو زبان کے ایک مشہور ناول نگار نسیم حجازی کا اصل نام محمد شریف تھا اور وہ 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ، روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ، قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیرہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔انھیں حکومت پاکستان نے 14اگست 1992ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ نسیم حجازی 2 مارچ 1996ء کوراولپنڈی میں وفات پاگئے اور ا سلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

UP