> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ بشیرحسین ناظم

 بشیرحسین ناظم پاکستان کے نامور عالم ، محقق، نقاد، شاعر، دانشور، مصنف، صحافی، مترجم اور نعت خواں بشیر حسین ناظم 25 اکتوبر 1932ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں وہ میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے برادرِ خرد میاں غلام اللہ ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے برصغیر کے عظیم محدث سید البرکات علیہ الرحمہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ مختلف زبانوں میں ایم۔اے کے امتحانات پاس کئے، قانون کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ نمبروں سے پی سی ایس کا امتحان پاس کیا۔ بشیرحسین ناظم نے مختلف زبانوں میں 30 سے زائد کتب تحریر کیں۔ ان کی تصنیفات میں جمالِ جہاں فروز، ابدی آوازاں، کلاسیکی ادب، خوان رحمت (سلام ِ رضا پر تضمین)، پنجابی اکھان، مکھ، خواباں خواباں جامِ سفالین، شواہد النبوت، SupremeProphet The، بیعت و خلافت، حسام الحرمین اور شرب مدام ما شامل ہیں۔ بشیرحسین ناظم کو اردو، فارسی، عربی، انگریزی ، پنجابی، سرائیکی اور ہندی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ نعت گوئی اور نعت خوانی انکا خاصا تھا۔ ملک میں فروغ نعت کے حوالے سے ان کی خدمات کیاعتراف میںحکومت پاکستان نے 14 اگست 1991 ء کو  انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔ بشیر حسین ناظم کا انتقال  17جون  2012ء کو اسلام آباد میں ہوا اور وہ وہیں آسودہ خاک ہوئے۔  

UP