> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ پروین شاکر

پروین شاکر اردو کی نام ور اور ممتاز شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرأ میں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے دیگر مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام ’’کف آئینہ‘‘ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔ پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کی جانب سے14 اگست1990ء کو ملنے والا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔ پروین شاکر26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئیں۔ پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP