> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ مسرت نذیر

مسرت نذیر پاکستان کی نامور اداکارہ اور گلوکارہ مسرت نذیر 13اکتوبر 1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان کینئرڈ کالج سے پاس کیا۔ مسرت نذیر نے موسیقی میں گہری دلچسپی ہونے کے باعث سب سے پہلے ریڈیو پاکستان کے لیے گانا شروع کیا تھا۔ اسی دوران ہدایت کار انور کمال پاشا نے انہیں اداکاری کی تجویز پیش کی اور مسرت کے والدسے مل کر ان سے مسرت کے فلموں میں کام کرنے کی اجازت بھی لی۔ 1955ء میں مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں پہلی بار کام کیا۔ اس فلم میں ان کا کردار جزوی لیکن مضبوط تھا۔ اس کے بعد مسرت نذیر نے شیخ لطیف کی فلم ’’پتن‘‘ میں پہلی بار مرکزی کردار ادا کیا جس کے ہدایت کار لقمان تھے۔ اس فلم میں انہوں نے سنتوش کمار کے مقابل اہم کردار ادا کیا۔ ’’پتن‘‘ نے مسرت کے لیے فلم انڈسٹری کے دروازے کھول دئیے۔ ان کی دو فلموں ’’یکے والی‘‘ اور ’’پاٹے خان‘‘ نے فلم انڈسٹری میں دھوم مچا دی تھی۔ مسرت کی مقبول ترین فلموں میں کرتار سنگھ، یار بیلی، نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، قسمت، نیا زمانہ، جٹی، وطن، رضا، سولہ آنے، گڈا گڈی، لکن مٹی ، سہارا، رخسانہ، ٹھنڈی سڑک، پلکاں، سہتی، سنہرے سپنے، مرزا صاحباں، جائیداد، جھومر، عشق پر زورنہیں، چھوٹے سرکار، گلفام، بہادر، باغی، جان بہار، ماہی منڈا شامل ہیں۔ مسرت نذیر نے 33 اردو اور 14 پنجابی فلموں میں کام کیا۔ مسرت نذیر اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کے گائے ہوئے کئی لوک گیت اور غزلیں بہت مقبول ہیں۔ جن میں میرا لونگ گواچا، چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ، اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لے مجھ کو، لٹھے دی چادر ، چٹا ککڑ بنیرے تے سر فہرست ہیں۔ مسرت نذیر کو ان کے فلمی کیریئر میں مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا۔ جن میں 1958 ء میں فلم ’’زہر عشق‘‘ 1959ء کی فلم ’’جھومر‘‘ اور 1961ء کی فلم ’’شہید‘‘ میں بہترین اداکاری پر ملنے والا نگار ایوارڈ اور14 اگست 1989ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے ملنے والا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست ہے۔ مسرت نذیرنے ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی تھی اوروہ 1960ء کی دہائی سے ٹورنٹو، کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔

UP