> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ منشی رضی الدین

 منشی رضی الدین پاکستان کے نامور کلاسیکل گائیک اور قوال منشی رضی الدین 1912ء میں رامپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق قوالی کے مشہور گھرانے قوال بچوں کا گھرانہ سے تھا۔ اس گھرانے کا آغاز امیر خسرو کے ایک شاگرد صامت ابراہیم نے کیا تھا۔ منشی رضی الدین ابتدا میں نظام حیدرآباد کے دربار سے وابستہ رہے۔ 1956ء میں وہ پاکستان آگئے اور اپنے کزنز کے ساتھ مل کر منشی رضی الدین، منظور نیازی اور برادران کے نام سے قوال گروپ تشکیل دیا۔ 1966ء سے انہوں نے علیحدہ گانے کا آغاز کیا جس میں بعدازاں ان کے بیٹے فرید ایاز اور ابو محمد بھی شامل ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے منشی رضی الدین کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14اگست 1989ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ منشی رضی الدین4جولائی 2003ء کو  لاہور میں وفات پاگئے اورلاہورہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔  

UP