صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ شفیع محمد شاہ

 شفیع محمد شاہ پاکستان ٹیلی وژن اور فلموں کے معروف اداکار شفیع محمد شاہ 1948ء میں کنڈیارو میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور ایگری کلچر بنک میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اسی زمانے میں وہ اپنی خوب صورت آواز کی بدولت ریڈیو پاکستان میں بھی صداکاری کے جوہر دکھانے لگے۔ کچھ عرصہ بعد وہ ملازمت ترک کرکے لاہور چلے گئے جہاں اداکار محمد علی کی وساطت سے انہوں نے فلم ’’کورا کاغذ‘‘ میں کردار ادا کیا۔ لاہور میں ہی انہیں ٹیلی وژن کے پروڈیوسر شہزاد خلیل نے اپنے ڈرامے اڑتا آسمان سے چھوٹی اسکرین پر متعارف کروایا لیکن ان کی شہرت کا آغاز ڈرامہ سیریل ’’تیسرا کنارا‘‘ سے ہوا، یہ ڈرامہ بھی شہزاد خلیل کی پیشکش تھا۔ لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے کئی اور فلموں میں کام کیا جن میں بیوی ہو تو ایسی، ایسا بھی ہوتا ہے، نصیبوں والی، روبی، تلاش، میرا انصاف اور الزام کے نام شامل ہیں۔ شفیع محمد شاہ نے ٹیلی وژن کے 50 سے زیادہ ڈرامہ سیریلز میں اداکاری کی جن میں آنچ، چاند گرہن، جنگل، دائرے، کالا پل، ماروی اور کھیلن کو مانگے چاند کے نام سرفہرست ہیں۔انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے ٹکٹ پر 2002ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ شفیع محمد شاہ کو ان کی خوب صورت اداکاری پر پی ٹی وی ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1989ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ان کی وفات کے بعد ستارہ امتیاز عطا کیا۔ شفیع محمد شاہ 17 نومبر 2007ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

UP