> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ استاد غلام حسن شگن

استاد غلام حسن شگن پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گائیک استاد غلام حسن شگن 1928ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ والد استاد بھائی لعل محمد اپنے عہد کے ایک نامور گویے تھے۔ان کو 1927ء میں شکار پور میں ہونے والی میوزک کانفرنس میں ’’سنگیت ساگر‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ کلاسیکی موسیقی کے گوالیار خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کا ایک اہم حوالہ ’’خیال‘‘ طرزِ گائیکی بھی ہے۔ اس خاندان کا تعلق براہِ راست تان سین سے ہے۔ بھائی لعل محمد کی زندگی میں ہی ان کے فرزند استاد غلام حسن شگن نے بھی اپنی خاندانی روایت کو آگے بڑھاناشروع کردیا تھا اوربچپن میں ہی ریڈیو پاکستان کے لیے پروگرام کرنا شروع کر دیا تھا۔وہ  1942ء کے لگ بھگ لاہور ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ اس دور میں استاد بڑے غلام علی خاں، استاد برکت علی خاں، خاںصاحب عنایت حسین ، حافظ علی خاں، استاد نتھو خاں یعنی سنگیت کے تمام بڑے نام ریڈیو سے منسلک تھے۔ بھائی لعل محمد کا انتقال 24 نومبر 1962ء کو لاہور میں ہوا۔ استاد غلام حسن شگن کو 1962ء میں دہلی میوزک کانفرنس میں سنگت کارِ اعظم کے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ نومبر1962ء میں آل انڈیا سدارنگ میوزک کانفرنس کلکتہ میں سنگیت سمراٹ کا خطاب دیا گیا۔ اسی برس موسیقی کی ایک اور کانفرنس میں شہنشاہِ موسیقی کا خطاب ملا۔ 14 اگست 1987ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔1995 میں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1996ء میں آل ورلڈ میوزک فیسٹیول روحانی(مراکش) میں جادوئے موسیقی کا خطاب دیا گیا۔ 1999ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 3 فروری 2015 کو وفات پائی ۔ غلام حسن شگن کے دو بیٹے قادر علی شگن اور مظہر حسن شگن بھی موسیقی کی دنیا سے وابستہ ہیں۔ قادر علی شگن گائیک اور موسیقار ہیں جبکہ مظہر حسن شگن رباب اور مینڈولین بجاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کپور تھلہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد بھائی لعل محمد اور ان کے بیٹے اور پوتوں کو کپور تھلہ گھرانے کا نمائندہ سمجھتے ہیں جبکہ غلام حسن شگن اور ان کے بیٹوں کا اصرار یہ ہے کہ بھائی لعل محمد کے والد بھائی عطا محمد گوالیار گھرانے کے شاگرد تھے ۔

UP