> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ سائیں اختر حسین

سائیں اختر حسین پاکستان کے معروف لوک فن کار سائیں اختر حسین 1920ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت استاد بھائی لعل محمد سے حاصل کی۔ وہ خود بھی ربابیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شاہ حسین، بابا بلھے شاہ، لعل شہباز قلندر، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے عرس کے موقع پر کافیاں اور لوک گیت گایا کرتے تھے۔ 1962ء میں انہوں نے ’’عشق پر زور نہیں‘‘ کے مشہور ’’نغمہ دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے‘‘ کے لئے پس منظر کا الاپ دیا جس سے ان کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی۔ سائیں اختر حسین نے اندرون ملک اور بیرون ملک لاتعداد سفر کئے۔ بھارت میں انہوں نے حضرت نظام الدین اولیا،حضرت امیر خسرو، حضرت مخدوم صابر اور خواجہ معین الدین چشتی کے مزارات پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ سائیں اختر حسین16 جون 1987ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور ہی میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد14 اگست 1987 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔  

UP