> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ سید ناصر جہاں

 سید ناصر جہاں پاکستان کے معروف نعت خواں اور نوحہ خواں سید ناصر جہاں 1927ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی لکھنؤ میں حاصل کی اور 1950ء میں پاکستان آگئے۔ زیڈ اے بخاری کی مردم شناس نظروں نے ان کی صلاحیتوں کو جلابخشی۔ 1954ء میں ریڈیو پاکستان سے انہوں نے مجلس شام غریباں کے بعد سید آل رضا کی نظم شام غریباں اپنے خوب صورت لحن میں پیش کی۔ یہ نظم بعد میں سلام آخر کے نام سے معروف ہوئی۔ اگست 1956ء میں انہوں نے مجلس شام غریباں اور سلام آخر کے درمیان چھنو لال دلگیر کا لکھا ہوا مشہور نوحہ ’’گھبرائے گی زینب‘‘ پہلی مرتبہ پڑھا جس کے بعد ناصر جہاں کا پڑھا ہوا یہ نوحہ اور یہ سلام ریڈیو پاکستان کی مجلس شام غریباں کا لازمی جزو بن گیا۔ بعدازاں پاکستان ٹیلی وڑن نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔ سید ناصر جہاں ایک اچھے نعت خواں بھی تھے ان کی پڑھی ہوئی کئی نعتیں بے حد مقبول ہوئیں جن میں امیر مینائی کی نعت ’’جب مدینے کا مسافر کوئی پاجاتا ہوں‘‘ سرفہرست ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1981ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سید ناصر جہاں 6 دسمبر 1990ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ  خاک ہیں۔  

UP