> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ نذیرصابر

 نذیرصابر پاکستان کے مشہور کوہ پیما نذیر صابر ہنزہ کے ایک گاؤں رمینی میں 1955ء میں پیدا ہوئے۔ 1974ء میں انھوں نے 7284 میٹر بلند پسو چوٹی سر کرکے اپنے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز کیا۔ 1981ء میں انھوں نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کی۔ وہ اشرف امان کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے پاکستانی کوہ پیما تھے۔ 1982ء میں انھوں  نے ایک ہفتے کے قلیل عرصے میں 8000میٹر سے اونچی دو پاکستانی چوٹیاں گیشر برم 2 اور براڈ پیک سر کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ 1992ء میں انھوں نے 8000 میٹر سے بلند ایک اور پاکستانی چوٹی گیشر برم 1 بھی سر کرلی۔ اور یوں 8000 میٹر سے اونچی پانچ پاکستانی چوٹیوں میں سے چار چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ 17 مئی 2000ء کو نیپال کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے انھوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ سر کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ نذیر صابر نے اپنے اس تاریخی سفر کا آغاز 20 مارچ 2000ء کو نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو سے کیا تھا۔ 7 مئی 2000ء کو وہ 7950 فٹ کی بلندی پر پہنچ کر موسم کی خرابی کے باعث واپس آگئے۔ دوسری مرتبہ 15مئی 2000ء کو 8750 فٹ کی بلندی تک پہنچے مگر پھر موسم کی خرابی کے باعث نیچے آگئے۔ دو مرتبہ موت کے منہ سے بچ نکلنے کے باوجود نذیر صابر نے ہمت نہ ہاری اور 17 مئی 2000ء کو دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔ انہوں نے پرچم لہرانے سے قبل خدا کے حضور سجدہ شکر ادا کیا اور وہاں پاکستان کا قومی ترانہ بھی گایا۔ نذیر صابر مائونٹ ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے 899 ویں کوہ پیما تھے۔ حکومت پاکستان نے نذیر صابر کو 14 اگست 1982ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2000 میں ستارہ امتیاز عطا کیا۔

UP