> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ میرزا ادیب

میرزا ادیب اردو کے نامور افسانہ و ڈرامہ نگار، نقاد اور ادبی جریدے ’’ادب لطیف‘‘ کے سابق مدیر میرزا ادیب کا اصل نام دلاور علی تھا اور وہ 4 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے گریجویشن کیا، ابتدا میں شاعری کو ذریعہ اظہار بنایا مگر پھر نثر کو اپنی شناخت بنالیا۔ کچھ عرصہ وہ ’’ادب لطیف‘‘ لاہور کے مدیر بھی رہے۔ میرزا ادیب کی تصانیف میں صحرا نورد کے خطوط، صحرا نورد کے رومان، دیواریں، جنگل، کمبل، حسرت تعمیر، متاع دل، کرنوں سے بندھے ہاتھ، فصیل شب، شیشے کے دیوار، آنسو اور ستارے، ناخن کا قرض اور ان کی خودنوشت سوانح ’’مٹی کا دیا‘‘ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی اعلیٰ ادبی خدمات کے اعزاز میں انہیں 14اگست1981ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چھ مرتبہ رائٹرز گلڈ کے انعامات اور تین مرتبہ گریجویٹ فلم ایوارڈز بھی حاصل کئے تھے۔ میرزا ادیب کا انتقال 31جولائی 1999ء کو لاہور میں ہوا۔

UP