> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ ظہیرعباس

 ظہیرعباس پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس 24 جولائی 1947ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ظہیر عباس پاکستان کے ان مایہ  ناز بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جن کا ہر اسٹروک قابل دید ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے اسٹائل اور زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی بنا پر ایشائی بریڈمین اور رنز بنانے کی مشین کہلاتے تھے۔ کرکٹ کے شائقین آج بھی ان کے کھیلنے کے انداز کو نہیں بھولے۔ ظہیر عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری 1969-1968ء میں کراچی کی طرف سے کھیلتے ہوئے مشرقی پاکستان کے خلاف بنائی تھی۔ 70-1969ء میں انہوں نے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور 1971ء میں انگلستان کے خلاف 274 رنز اسکور کئے۔ اس کے بعد ظہیر عباس فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ دونوں میں سنچریوں کا ڈھیر لگاتے رہے۔ 11 دسمبر 1982ء کو بھارت کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں ظہیر عباس نے اپنے کیریئر کی سوویں فرسٹ کلاس سنچری اسکور کی۔ اس اننگز میں ظہیر عباس نے 215 رنز اسکور کئے تھے۔ اس طرح ظہیر عباس کو نہ صرف یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی سوویں فرسٹ کلاس سنچری ٹیسٹ میچ میں اسکور کی بلکہ یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا کہ ان کی سوویں سنچری ڈبل سنچری تھی۔ ظہیر عباس نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 78 ٹیسٹ میچوں میں بارہ سنچریوں کی مدد سے 5062 رنز اسکور کیے تھے اور تین وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔ 14 اگست 1970ء کو حکومت پاکستان نے ظہیر عباس کو پہلی مرتبہ اور 14 اگست 1986ء کو دوسری مرتبہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ وہ پاکستان کی پہلی شخصیت تھے جنہیں یہ اعزاز دو مرتبہ عطا ہوا تھا۔      

UP