> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ خواجہ معین الدین

    خواجہ معین الدین پاکستان کے نامور ڈرامہ نگار خواجہ معین الدین کا تعلق حیدر آباد (دکن) کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا جہاں وہ 23 مارچ 1924ء کو پیدا ہوئے۔ خواجہ معین الدین حیدرآباد (دکن) میں تھے تو اکثر ریڈیو دکن سے پروگرام نشر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں چند ڈرامے بھی لکھے جن میں سے سرکاری دکان اور پرانے محل بہت پسند کیے گئے۔ 1948ء میں پاکستان آنے کے بعد بھی انہوں نے اس شغل کو جاری رکھا۔ پاکستان میں انہوں نے جو ڈرامے تحریر کیے ان میں سب سے پہلا ڈرامہ زوال حیدرآباد تھا۔ اس کے بعد انہوں نے نیا نشان‘ لال قلعے سے لالوکھیت تک‘ تعلیم بالغان‘ مرزا غالب بندر روڈ پر‘ جیل کو کہیں سسرال‘ جلسہ عام اور ساون کا اندھا نامی ڈرامے نہ صرف تحریر کیے بلکہ ان کی ہدایات بھی دیں۔ ان کے ڈرامے طنز کے نشتروں اور مزاح کی حلاوت کا ایک خوب صورت مرقع ہوئے تھے اور انہیں دیکھنے والے ایک لمحے کے لیے بھی ان کے مکالمات کے طلسم سے باہر نکل نہیں پاتے تھے۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 1966ء کو انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ خواجہ معین الدین 9 نومبر 1971ء کو انتقال کرگئے۔ انھوں نے صرف 47 سال کی عمر پائی مگر اتنی کم عمری کے باوجود وہ ڈرامہ نگاری میں اپنے انمٹ نقوش رقم کر گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔  

UP