> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ گاما پہلوان

گاما پہلوان گاما پہلوان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ وہ 1878ء میں ریاست دتیّہ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد عزیز پہلوان درباری پہلوان تھے۔ ان کی وفات کے بعد گاما پہلوان کی تربیت ان کے ماموں عیدا پہلوان نے کی۔ گاما پہلوان نے رستم پنجاب اور رستم ہند کے خطابات اپنے ابتدائی زمانے میں ہی حاصل کرلیے تھے۔ 10 ستمبر 1910ء کو گاما پہلوان نے پولینڈ کے پہلوان اسٹینلے زبسکو سے ، جو یورپ کا چیمپین تھا، کشتی لڑی۔ یہ کشتی 2 گھنٹے 34 منٹ جاری رہی لیکن جب اس کے باوجود اس کشتی کا فیصلہ نہ ہوسکا تو اسے ایک ہفتہ تک ملتوی کردیا گیا۔ اگلے ہفتے زبسکو گاما کے مقابلے پر میدان میں نہیں آیا۔ یوں گاما نے جون بل بیلٹ اور رستم زماں کا خطاب حاصل کرلیا۔ گاما پہلوان تیس سال سے زیادہ عرصہ تک اکھاڑے کی دنیا کے بے تاج بادشاہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے۔ 23 مارچ 1960 ء کو حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ گاما پہلوان نے 23 مئی 1960ء کو لاہور میں  وفات پائی۔ وہ لاہور ہی میں قبرستان پیر مکی میں آسودہ خاک ہیں۔      

UP