> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔حفیظ جالندھری

حفیظ جالندھری حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900ء کو پنجاب کے مشہور شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’شاہنامہ اسلام‘‘ ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں ’’فردوسی اسلام‘‘ کا خطاب دیا گیا۔  حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے۔ اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اورسوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ’’ہفت پیکر‘‘ گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب ’’چیونٹی نامہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں 23 مارچ 1958ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ حفیظ جالندھری نے 21 دسمبر1982ء کو لاہور میں وفات پائی۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔            

UP