> <

پاک فوج کے سربراہ ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی

 جنرل اشفاق پرویز کیانی (اٹھائیس نومبر ۲۰۰۷ء تا انتیس نومبر ۲۰۱۳ء) 20 اپریل 1952 کو پیدا ہونے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی بری فوج کے پہلے سربراہ تھے جو پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے۔ وہ پہلے سپاہ سالارتھے جنہیں آئی ایس آئی کی کمان کا براہِ راست تجربہ ہے۔ وہ پہلے کمانڈرتھے جنہوں نے اپنے عہدے کی پہلی مدت میں توسیع خود سے نہیں مانگی بلکہ ایک منتخب حکومت کی جانب سے توسیع چل کے آئی ۔ جنرل کیانی کو 1971 میں فوجی کمیشن ملا۔ انھوں نے کاکول کے علاوہ امریکی آرمی کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج فورٹ بیننگ اور فورٹ لیون ورتھ سے بھی عسکری تجربہ حاصل کیا۔ ریاست ہوائی کے ایشیا پیسفک سینٹر سے سکیورٹی سٹڈیز کا کورس کیا۔ سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مدرس رہے۔ پنڈی کی دسویں کور کو کمان کیا۔ اکتوبر 2004 میں انھیں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا ۔ اس دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملے شروع ہوئے۔ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھا۔ لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ خودکش بمباروں کے پھٹنے کا چلن بکثرت پھیلا۔ بلوچستان میں شورش کا ایک اور باب کھلا۔ اکبر بگٹی قتل ہوئے۔ عدلیہ اور مشرف حکومت میں محاذ آرائی انتہا تک پہنچی۔ بےنظیر بھٹو سے مذاکرات میں جنرل کیانی نے مشرف حکومت کی نمائندگی کی۔ بےنظیر کو جنرل کیانی پر اس لیے بھی اعتماد تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ان کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اکتوبر 2007 میں آئی ایس آئی کی سربراہی سے سبک دوش ہونے کے بعد وائس چیف آف آرمی سٹاف بنائے گئے اور پھر دو ماہ بعد مکمل چیف آف آرمی سٹاف بنے ۔ جنرل کیانی کے دور میں لاپتہ افراد کے مسئلے میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملے نے پاکستان امریکہ تعلقات کو ابتر سطح پر لا کھڑا کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کا سکینڈل ہوا۔ میمو گیٹ کھلا۔ وزیرستان اور سوات میں فوجی آپریشن ہوئے۔جنرل کیانی نے فوج کے بنیادی عسکری نظریے میں ترجیحاتی تبدیلی کی۔ یعنی بھارت کے بجائے پاکستان کا اولین دشمن دہشت گردی کو قرار دیا گیا ۔        

UP