> <

پاک فوج کے سربراہ ۔ جنرل جہانگیر کرامت

جنرل جہانگیر کرامت (بارہ جنوری ۱۹۹۶ء تا سات اکتوبر ۱۹۹۸ء)   جنرل کاکڑ کی سبک دوشی کے وقت جنرل جہانگیر کرامت ہی سب سے سینیئر جنرل تھے چنانچہ انھیں اگلا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ جنرل جہانگیر کرامت 20 جنوری 1941ء و سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے 1961ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ 1965 میں انھوں نے اکھنور اور 1971ء میں شکر گڑھ کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ دورانِ ملازمت انھوں نے بین الاقوامی تعلقات اور وار اسٹڈیز میں ڈگریاں حاصل کیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سٹرٹیجک سٹڈیز اور وار کالج میں ملٹری سائنس پڑھاتے رہے۔ 80 کی دہائی میں سعودی عرب میں فوجی مشیر بھی رہے۔ ان کی سپہ سالاری کے دوران صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ممکنہ برطرفی کی سن گن ملتے ہی جنرل جہانگیر کرامت نے مبینہ طور پر سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کے ذریعے صدر اور وزیرِ اعظم کو پیغام بھیجا کہ باہمی اختلافات جتنی جلد دور کرلیں اتنا ہی جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اختلافات جب ذاتیات تک پہنچ جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہوا۔ عبوری حکومت کے تحت انتخابات ہوئے۔ نواز شریف کو دوسری بار وزیرِ اعظم بننے کا موقع ملا۔ پھر جہانگیر کرامت کو سپہ سالاری کے ساتھ ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی تفویض کردیا گیا۔ جب نواز شریف کی چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ٹھن گئی تو اس لڑائی میں جنرل جہانگیر کرامت نے غیر جانبداری برتی۔ انھی کے دور میں بھارت کے جوہری دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کیے۔ زندگی ٹھیک ہی چل رہی تھی کہ اکتوبر 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت نے نیول وار کالج میں خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ریاستی ڈھانچے کے استحکام کے لیے ترکی کی طرز پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نواز شریف حکومت اس تجویز سے یہ سمجھی کہ جنرل صاحب کے ارادے ٹھیک نہیں۔ چنانچہ ان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا۔ پھر وہ امریکہ چلے گئے اور سٹینفورڈ یونیورسٹی اور بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے علمی و تحقیقی کاموں سے خود کو منسلک کرلیا۔ جنرل مشرف کے دور میں لگ بھگ دو برس واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رہے۔ بعد ازاں اپنا تھنک ٹینک سپئیر ہیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر لیا۔      

UP