پاک فوج کے سربراہ ۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان (سترہ جنوری ۱۹۵۱ء تا ستائیس اکتوبر ۱۹۵۸ء)   پاکستان کی بری فوج کے تیسرے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 14 مئی 1907ءکو ضلع ہزارہ کے گاﺅں ریحانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ءمیں میٹرک کرنے کے بعد علی گڑھ چلے گئے۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ (انگلستان) سے فوجی تعلیم حاصل کی اور 1928ءمیں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایوب خان نے برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ 1947ءمیں کرنل کے عہدے پر ترقی ملی‘ قیام پاکستان کے بعد انہیں بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ دسمبر 1948ءمیں وہ میجر جنرل بنا دیے گئے اور ان کی تعیناتی مشرقی پاکستان کردی گئی۔ 1950ءمیں وہ ایڈجیوننٹ جنرل (Adjutant General) بنا ئے گئے اور 17 جنوری 1951ءکو پاکستان کی بری افواج کے پہلے پاکستانی اور مسلمان کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انیس سو چون میں جب محمد علی بوگرانے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں اسکندر مرزا اور ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔ یوں جنرل ایوب خان پاکستان کے وزیر دفاع بن گئے۔ 1958ءمیں جب ملک میں طوائف الملوکی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو اسکندر مرزا نے 8 اکتوبر 1958ءکو ملک میں مارشل لا نافذ کردیا اور آئین کو معطل کردیا۔ جنرل ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پرفائز ہوئے۔24 اکتوبر 1958ءکو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دیے گئے لیکن فقط تین دن بعد 27 اکتوبر 1958ءکو انہوں نے صدر اسکندر مرزا کو معزول کرکے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات سنبھال لیے۔صدر ایوب خان نے نہایت تیزی سے ملکی صورتحال کو سنبھالا انہوں نے فوجی اسپرٹ سے رات دن کام کرکے ملک میں کئی مفید اصلاحات نافذ کیں ۔ 27 اکتوبر 1959ءکو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلیٰ ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا۔ 17 فروری 1960ءکو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ 8 جون 1962ءکو انہوں نے مارشل لا کے خاتمے اور صدارتی طرز حکومت کے نئے آئین کے نفاذ کا اعلان کیا۔جنوری 1965ءمیں ملک میں ایک مرتبہ پھر بنیادی جمہوریت کے نظام پر مبنی صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں ایوب خان نے کامیابی حاصل کی۔ ستمبر 1965ءمیں جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ جنوری 1966ءمیں تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔پاکستان کے عوام میں اس معاہدے سے بڑی بددلی پھیلی۔ 1968ءمیں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئےاور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کردیا۔ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہوا۔ 25 مارچ 1969ءکو ایوب خان نے ملک کی باگ ڈور جنرل یحییٰ خان کے سپرد کردی اور خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان20 اپریل 1974ءکو اسلام آباد میں وفات پاگئے اور اپنے آبائی گاﺅں ریحانہ میں دفن ہوئے۔ ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری فرینڈز ناٹ ماسٹرزکے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریز آف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔        

UP