> <

پاک فوج کے سربراہ ۔جنرل سر فرینک میسروی

جنرل سر فرینک میسروی (پندرہ،اگست ۱۹۴۷ء  تا  دس،  فروری ۱۹۴۸ء) جنرل سر فرینک میسروی 9 دسمبر 1893ء کو ٹرینی ڈاڈ میں پیدا ہوئے ۔  انھوں نے 1913ء میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا ۔تقسیم ہند کے وقت متحدہ ہندوستان کی فوج کُل چار لاکھ تھی۔ پاکستان کو اس چار لاکھ فوج میں سے ڈیڑھ لاکھ فوج ملی۔قیام پاکستان سے قبل 30 جون 1947 کو افواج کی تقسیم سے متعلق کونسل کا اجلاس ہوا جس میں قائد اعظم نے شرکت کی، اس اجلاس میں یہ طے پایا کہ اگلے 6ماہ تک جب دونوں ممالک میں افواج کی تقسیم کا کام مکمل نہیں ہو جاتا اور دونوں حکومتیں اپنی افواج کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے کے قابل نہ ہو جائیں اُس وقت تک فیلڈ مارشل سر کلاؤڈ آکن لیک دونوں ممالک کی افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر کام کریں گے ۔ قیام پاکستان کے بعد فوجی افسران کی کمی جونیئر افسران کو قبل از وقت ترقیاں دے کر پوری کی گئی ۔ سر فرینک میسروی کو نئی مملکت پاکستان کا پہلا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔ انھی کے دور میں 22 اکتوبر 1947ء کو آپریشن گلمرگ شروع ہوا اور پاکستانی قبائلی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا سری نگر کے مضافات تک پہنچ گیا۔ تاہم کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو ریاست کی ’سٹینڈ سٹل پوزیشن‘ ترک کر کے جموں میں بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے اور اگلے دن بھارتی گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے الحاق قبول کرنے کے فوراً بعد بھارتی دستے سری نگر میں اترنے لگے اور قبائلی لشکر کو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔ جنگِ کشمیر یکم جنوری 1949ء کو ’جو جہاں ہے وہیں رک جائے‘ کے اصول کے تحت اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے تھمی۔ تاہم جنرل میسروی کی 35 سالہ فوجی ملازمت کی معیاد دس فروری 1948 کو دورانِ جنگ ہی ختم ہوگئی۔ نہ جنرل میسروی نے توسیع مانگی اور نہ ہی گورنر جنرل یا وزیرِاعظم کی جانب سے کوئی بیان آیا کہ لڑائی کے بیچ میں گھوڑا بدلنا ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارتی گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن اور کمانڈر انچیف سر روب لاک ہارٹ جنرل میسروی سے خوش نہیں تھے کیونکہ میسروی نے انھیں قبائلیوں کی پیش قدمی کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا تھا۔ مگر جنرل میسروی کا موقف تھا کہ وہ ایسی رازدارانہ معلومات صرف پاکستانی گورنر جنرل اور حکومت کو دینے کے پابند ہیں۔ سر فرینک میسروی انتہائی پیشہ ور فوجی تھے ، ان کا دور مختصر رہا اور وہ 15 اگست 1947ء سے 10فروری 1948ءاس عہدے پر فائز رہے۔1947-48 کی پاک بھارت جنگ کے وقت جنرل سر فرینک میسروی چُھٹیوں پر تھے اور جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی پاک افواج کے قائم مقام کمانڈر انچیف تھے۔ جنرل میسروی کا انتقال 2 فروری 1974ء کو انگلستان میں ہوا۔        

UP