> <

اختر حسین خان کی وفات

اختر حسین خان ٭یکم جنوری 1974ء کو پٹیالہ گھرانے کے نامور موسیقار اور گائیک خان صاحب اختر حسین خان انتقال کرگئے۔ برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کا نام سرفہرست ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد برکت علی خان‘ استاد عاشق علی خان‘ استاد مبارک علی خان‘ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان سے لے کر استاد حامد علی خان‘ اسد امانت علی خان‘ زاہدہ پروین‘ شفقت امانت علی خان اور رستم فتح علی خان تک کلاسیکی موسیقی کے متعدد بڑے فنکاروں کا تعلق اسی گھرانے سے رہا ہے۔ اس گھرانے کا یہ نام ریاست پٹیالہ سے وابستگی کی وجہ سے پڑا۔ اس گھرانے کے بانی خان صاحب جرنیل علی بخش خان اور خان صاحب کرنیل فتح علی خان تھے۔ یہ دونوں گو آپس میں رشتے دار نہ تھے لیکن ہمیشہ سگے بھائیوں کی طرح رہے اور جہاں گانے کے لیے گئے‘ اکٹھے گئے۔ یہ دونوں اساتذۂ فن پہلے گوکھی بائی کے شاگرد ہوئے پھر بہرام خان‘ مبارک علی خان اور تان رس خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے انہیں جرنیل اور کرنیل کے خطابات دیے۔ انہی جرنیل علی بخش خان کے فرزند خان صاحب اختر حسین خان تھے‘ جو 1896ء میں پیدا ہوئے تھے۔ خان صاحب اختر حسین خان نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی اپنے باکمال والد سے حاصل کی اور پھر اپنے بیٹوں امانت علی خان اور فتح علی خان اور پوتے اسد امانت علی خان کو فن موسیقی کا درس دے کر اس فن کو آگے بڑھایا۔ خان صاحب اختر حسین خان کا انتقال لاہور میںہوا۔ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

UP