امام غزالی کی وفات

امام غزالی ٭19دسمبر 1111ء عالم اسلام کے عظیم فلسفی امام غزالی کی تاریخ وفات ہے۔ امام غزالی کا پورا نام ابو حامد محمد الغزالی تھا اور وہ 1059ء میں خراسان کے قریب طوس کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم طوس میں حاصل کی اور پھر نیشاپور آگئے جہاں انہوں نے امام الحرمین ابوالمعالی سے ظاہری اور باطنی علم کی تکمیل کی۔ استاد کی وفات کے بعد نظام الملک طوسی کے پاس پہنچے جنہوں نے انہیں اپنے قائم کردہ مدرسہ بغداد میں صدر مدرس مقرر کردیا۔ امام غزالی نے کچھ عرصے درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے اور پھر فلسفے اور مذہب کے گہرے مطالعے میں مصروف ہوگئے۔ اس مطالعے نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ فلسفہ اور مذہب دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں چنانچہ انہوں نے معاصر فلسفیوں اور قدیم فلسفوں کو چیلنج کیا اور بڑی شدومد کے ساتھ فلسفیانہ نظریات و عقائد کی مخالفت اور اسلام کی حمایت کی ، اسی وجہ سے انہیں حجتہ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔امام غزالی کی تصانیف میں احیائے علوم دین، تہافت الفلاسفہ اور مقاصد الفلاسفہ کے نام سرفہرست ہیں۔  

UP