> <

قابل اجمیری کی وفات

قابل اجمیری ٭ اردو کے نامور شاعر قابل اجمیری 3 اکتوبر 1962ء کو قابل اجمیری حیدرآباد میں وفات پاگئے۔ وہ تپ دق کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ قابل اجمیری کا اصل نام عبدالرحیم تھا اور وہ چرلی‘ اجمیر شریف کے مقام پر 27 اگست 1931ء کو پیدا ہوئے تھے ان کے شعری مجموعوں میں خون رگ جاں اور دیدۂ بیدار کے نام شامل تھے۔ ان کی کلیات بھی ’’کلیات قابل‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ قابل اجمیری نے صرف 31 برس کی عمر پائی مگر اتنی کم عمری میں وفات پانے کے باوجود وہ آج بھی اردو کے صف اول کے شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے متعدد اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ……٭٭٭…… دل کی دھڑکن کا اعتبار نہیں ورنہ آواز تو تمہاری ہے ……٭٭٭…… تم نہ مانو مگر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے

UP