> <

1985ء کے عام انتخابات اور ڈاک ٹکٹ

پاکستان کے ڈاک ٹکٹ 12 جنوری 1985ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک میں قومی اسمبلی کے آئندہ انتخابات 25 فروری کو اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 28 فروری کو منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات کا وعدہ صدر مملکت نے 12 اگست 1983ء کو اپنی ایک نشری تقریر میں کیا تھا۔ یہ انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق اپنی مقررہ تاریخوں کو مکمل ہوگئے۔ عوام نے ان انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور پولنگ کی شرح تقریباً پچاس فیصد رہی۔ یہ عام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے۔ ان انتخابات نے ملک میں ایک نئے طرز کی بنیاد ڈال دی جس میں اعلیٰ اخلاق، نظریات اور جماعت کی بجائے مقامی اثر و رسوخ، قبیلہ اور برادری کی اہمیت اور سرمائے کے بے دریغ استعمال کو فروغ حاصل ہوا۔ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی سیاست نے جنم لیا، تعصبات کو ہوا دی گئی، جاگیردارانہ کلچر کی گرفت مزید مضبوط ہوئی۔ ایک سروے کے مطابق ان انتخابات میں بھاری تعداد میں ایسے افراد ہی منتخب ہوئے جنہوں نے ہمیشہ اقتدار کو سجدہ کیا ہے۔ ان انتخابات کے انعقاد کے تقریباً ایک ماہ بعد 23مارچ 1985ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک ایک روپیہ مالیت کے دو یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن میں سے ایک ڈاک ٹکٹ پر مینار پاکستان کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں ELECTION 85 DEMOCRACY 23rd. MARCH 1985 جبکہ دوسرے ڈاک ٹکٹ پر بیلٹ باکس کی تصویر بنی تھی اور اس پر اردو میں الیکشن ۸۵ اور انگریزی میں ELECTION 85  23 MARCH 198 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ یہ دونوں ڈاک ٹکٹ  جناب عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیے تھے۔  

UP