> <

سکھر بیراج کی تعمیر کی گولڈن جوبلی پر یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ

پاکستان کے ڈاک ٹکٹ 13 جنوری 1932ء کو بمبئی کی گورنر لارڈ لائیڈ نے سکھر کے نزدیک ایک بیراج کا افتتاح کیا۔ جس کا نام ان کے نام پر لائیڈ بیراج رکھا گیا۔ لائیڈ بیراج دنیا کے چند بڑے بیراجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بیراج کی تعمیر 1923ء میں شروع ہوئی تھی اور آٹھ برس میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ بیراج زردپتھر اور فولاد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 4725 فٹ ہے اور اس کے 46 دروازے ہیں۔ یہ بیراج دنیا میں اپنی نوعیت کا آبپاشی کا سب سے بڑا بیراج ہے۔ لائیڈ بیراج دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس سے سات نہریں نکالی گئی ہیں جو سندھ کے دور دور کے اضلاع کو سیراب کرتی ہیں۔ ان نہروں کی مجموعی لمبائی تقریباً 5 ہزار میل ہے اور ان میں سے ایک نہر روہڑی نہر کی چوڑائی نہر سوئز اور نہرپانامہ سے بھی زیادہ ہے۔ ان نہروں سے تقریباً75لاکھ ایکڑ رقبہ پر سیراب ہوتا ہے۔ لائیڈ بیراج کی تعمیر سے سندھ میں آبپاشی کو بڑا فروغ ہوا اور یہاں گندم، کپاس، باجرہ اور تیل کے بیجوں کی فصلوں میں بہت خوشگوار اضافہ ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد اس بیراج کا نام تبدیل کرکے سکھر بیراج رکھ دیا گیا اور آج کل یہ اسی نام سے معروف ہے۔ 17 جولائی 1982ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس بیراج کی تعمیر کے پچاس سال مکمل ہونے پر  ایک روپیہ مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر سکھر بیراج کی تصویر بنی تھی اور  SUKKUR BARRAGE GOLDEN  JUBILEE 1932-1982 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس یادگاری ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن جناب عادل صلاح  الدین نے تیار کیا تھا ۔

UP