> <

حیدر بخش جتوئی کی پیدائش

حیدر بخش جتوئی ٭ سندھ کے مشہور ہاری رہنما  اور  شاعر  حیدر بخش جتوئی 7 اکتوبر 1900ء کو ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ 1922ء میں انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے گریجویشن اور 1923ء میں آنرز کیا۔ بعد ازاں وہ سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوگئے اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچے۔1943ء میں حیدر بخش جتوئی نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہا اور ہاریوں کی تحریک میں شامل ہوگئے۔1946ء میں وہ سندھ ہاری کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1950ء میں ہاری کونسل نے ان کا مرتب کردہ آئین منظور کرلیا اور اسی برس ان کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت سندھ نے قانون زراعت منظور کرلیا۔حیدر بخش جتوئی نے سندھ کے ہاریوں کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد میں زندگی کے سات برس جیل میں گزارے۔ حیدر بخش جتوئی ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ برصغیر پاک و ہند کی جدوجہد آزادی پر لکھی گئی ان کی نظم جو آزادی قوم کے نام سے شائع ہوئی تھی‘ ان کی شاہکار نظم سمجھی جاتی ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں دریا ھ شاہ‘ تحفہ سندھ‘ ھاری گیت‘ ھاری انقلاب اور سندھ پیاری شامل ہیں۔ 1969ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث وہ صاحب فراش ہوگئے۔ 21 مئی 1970ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ حیدر بخش جتوئی کو سندھ کے عوام نے ’’بابائے سندھ‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا اور وہ ہر طرح سے اس خطاب کے اہل تھے۔2000ء میں ان کی وفات کے 30برس بعد حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز کا تمغہ عطا کیا۔        

UP