سارک تنظیم کا قیام عمل میں آیا

سارک تنظیم ٭ جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی تنظیم سارک یا سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔ سارک کے قیام کی تجویز سب سے پہلے بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1980ء میں پیش کی تھی۔ انہوں نے جن شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی تھی ان میں اقتصادی،فنی، سائنسی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی شعبے شامل تھے۔ اس کے بعد اپریل 1981ء سے اگست 1984ء تک کولمبو، کٹھمنڈو، اسلام آباد، ڈھاکہ اور نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر سال بہ سال مذاکرات منعقد ہوتے رہے جس میں اس تنظیم کے خدوخال متعین ہوئے۔ 7 دسمبر 1985ء کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں جنوب ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا افتتاح بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد نے کیا۔ اس کانفرنس میں جن سربراہان ممالک نے شرکت کی ان میں بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر جے وردھنے، نیپال کے شاہ مہندرا، بھوٹان کے شاہ جگمی وانگچوک اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شامل تھے۔اگلے روز یعنی 8 دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے ممالک کی اس تنظیم کے منشور کا اعلان کردیا گیا اور یوں اس تنظیم کا قیام عمل میں آگیا۔16 جنوری 1987ء کو نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں اس تنظیم کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا۔  

UP