میرا جی کی وفات

میرا جی ٭3 نومبر 1949ء کو اردو کے معروف شاعر میراجی انتقال کرگئے۔ میراجی کا اصل نام ثناء اللہ ڈار تھا اور وہ 1913ء میں پیداہوئے تھے۔ ان کے والد منشی شہاب الدین ریلوے انجینئر تھے جن کا مختلف شہروں میں تبادلہ ہوتے رہنے کی وجہ سے میرا جی کی تعلیم و تربیت بھی مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر ہوئی۔ میرا جی نے کم عمری سے ہی نظمیں کہنے کا آغاز کیا‘ ابتدائی دور شاعری میں وہ سامری تخلص کرتے تھے۔ بالآخر وہ لاہور میں رہائش پذیر ہوئے یہاں میرا سین نامی ایک بنگالی لڑکی ان کی زندگی میں داخل ہوئی‘ جس کے عشق میں انہوں نے اپنا نام بھی میرا جی رکھ لیا اور ان کی زندگی اس طرح بدل گئی جیسے انہوں نے نیا جنم لیا ہو۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے حلقۂ ارباب ذوق میں دلچسپی لینی شروع کی۔ 1937ء میں وہ رسالہ ادبی دنیا کے نائب مدیر بنے۔1941ء میں انہوں نے آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی جہاں انہوں نے گیت نگاری کی طرف توجہ کی جن کا مجموعہ ’’گیت ہی گیت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ چند سال دلی میں گزارنے کے بعد وہ بمبئی چلے گئے جہاں انہوں نے ایک ادبی رسالہ خیال جاری کیا۔ 3 نومبر 1949ء کو انہوں نے بمبئی کے ایک اسپتال میں وفات پائی۔ میرا جی ایک ایسے شاعر تھے جنہیں اردو ادب میں باغی شاعر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ باغی اس لیے کہ انہوں نے ن۔م۔ راشد کی طرح اردو نظم کی روایت سے مکمل بغاوت کی اور اپنی منظومات کو موضوع اورتکنیک ہر دو لحاظ سے بالکل نئے رنگ میں پیش کیا۔ میرا جی کے متعدد مجموعہ کلام شائع ہوئے جن میں مشرق و مغرب کے نغمے ، میرا جی کی نظمیں اور نگار خانہ کے نام سرفہرست ہیں۔ان کی کلیات، کلیاتِ میرا جی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔        

UP