> <

جنرل پرویز مشرف کی پیدائش

جنرل پرویزمشرف پاکستان کے دسویں صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ، 1964 میں پاکستان کی بری فوج میں شامل ہوئے اور 1965 اور 1971کی جنگوں میں شریک ہوئے۔ 7 اکتوبر 1998 کو بری فوج کے چیف آف اسٹاف کے منصب پر فائز ہوئے ۔ 1999 میں انہوں نے کارگل کے محاز پر مہم جوئی کی جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاسی قیادت کو دنیا بھر میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کی سیاسی قیادت اور جنرل پرویز مشرف کے درمیاں بد اعتمادی کی فضا نے جنم لیا ۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب جنرل پرویز مشرف سری لنکا گئےہوئے تھے تو اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف  نے انھیں ان کے عہدے سے معزول کرکے آی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیا الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔ فوج کے اعلیٰ افسران نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا توانھوں نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو معزول کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اور تین سال میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ پلان پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مشرف کو معطل کیا جا رہا تھا۔  مئی 2000 میں عدالت عظمیٰ نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002 تک انتخابات کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002 میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں کے منصفین حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔  اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی تھے۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے اپنے اس وعدے کو پورا نہ کیا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی جماعت سے قومی اسمبلی میں سترہویں ترمیم منظور کروا لی جس کی رو سے انہیں باوردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔   3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے آرمی چیف کی حیثیت سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی، جس کا مقصد اعلی عدالت کے ریاستی ادارے کی آزادی ختم کرنا تھا۔ نو سال بعد مشرف فوج کے سربراہ کے عہدے سے 28 نومبر 2007ء کو سبکدوش ہو گئے۔ 29 نومبر 2007ء کو پانچ سال کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایا، جو عوامی اور سیاسی حلقوں میں متنازع ہے ۔ پرویز مشرف نے عوام میں نامقبول ہونے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کے باعث 18 اگست 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔   عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تاہم 2013 میں وہ وطن واپس آئے جہاں انہیں آئین سے غداری سمیت کئی مقدمات کا سامنا ہے ۔

UP