> <

صاحبزادہ عبدالقیوم خان کی وفات

صاحبزادہ عبدالقیوم خان ٭4 دسمبر 1937ء کو صوبہ سرحد کے مشہور ماہر تعلیم صاحبزادہ عبدالقیوم خان کی تاریخ وفات ہے۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان 1864ء میں ضلع صوابی کے گائوں ٹوپی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور پولیٹیکل ایجنٹ کے عہدوں پر فائز رہے۔ 1912ء میں انہوں نے پشاور میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی، اس ادارے نے جسے اب یونیورسٹی کا درجہ دیا جاچکا ہے صوبہ سرحد کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ حکومت ہند نے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر خان بہادر، سی آئی ای، نواب اور سر کے خطابات کے علاوہ قیصر ہند گولڈ میڈل سے سرفراز کیا جبکہ عوام نے انہیں سرحد کے سرسید کا خطاب دیا۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن بھی رہے اور 1930 ء تا 1932ء میں لندن میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں بھی شریک ہوئے۔ وہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔      

UP