پیر الٰہی بخش کی وفات

پیر الٰہی بخش ٭8 اکتوبر 1975ء کو پاکستان کے نامور سیاست دان اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جناب پیر الٰہی بخش انتقال کرگئے۔ وہ 1897ء میں پیر جو گوٹھ ضلع دادو میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی‘ ابتدا ہی سے انہیں مسلمانان برصغیر کی سیاسی جدوجہد میں فعال حصہ لینے کا شوق تھا انہوں نے اپنے سیاسی زندگی کا آغاز تحریک خلافت سے کیا۔ اس کے بعد سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک چلی تو انہوں نے اس تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا پھر وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ مئی 1948ء میں جب قائد اعظم نے مختلف اسباب کی بنا پر سندھ وزارت کو برطرف کردیا تو پیر الٰہی بخش سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پرفائز ہوئے۔ پیر الٰہی بخش نے قائد اعظم کے اعتماد کا حق ادا کیا اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے فرائض حسن و خوبی سے انجام دیے۔ ان کی کوششوں سے سندھ میں مختلف تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا جن میں سندھ یونیورسٹی اور اردو کالج کے نام سرفہرست ہیں۔ اسی بنا پر آپ کو سرسید سندھ کے خطاب سے بھی موسوم کیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد جناب پیر الٰہی بخش مہاجروں کی آباد کاری میں بھی پیش پیش رہے۔ کراچی میں پیر الٰہی بخش کالونی مہاجروں کی ان سے خلوص و نیاز مندی کا مظہر ہے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد پیر الٰہی بخش جوڑ توڑ کے باعث نہ صرف یہ کہ سندھ کی وزارت اعلیٰ سے بلکہ مسلم لیگ سے ہی علیحدہ ہوگئے۔کچھ عرصے بعدانہوں نے حسین شہید سہروردی‘ پیر مانکی شریف اور خان افتخار حسین ممدوٹ کی رفاقت میں عوامی مسلم لیگ قائم کی اور ایک فعال حزب اختلاف کی بنیاد رکھی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں وہ سیاست سے کنارہ کش ہوگئے لیکن جب 1967-68ء میں سندھ میں جئے سندھ کی تحریک چلی تو انہوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جی ایم سید کے افکار و نظریات پر ایک کتابچہ ’’ادب کی آڑ میں‘‘ شائع کیا۔ پیرالٰہی بخش کراچی ہی میں اپنے نام سے موسوم بستی کی ایک جامع مسجد میں آسودۂ خاک ہیں۔

UP