> <

چوہدری ظہور الٰہی کا قتل

چوہدری ظہور الٰہی ٭25 ستمبر 1981ء کو ممتاز مسلم لیگی رہنما چوہدری ظہور الٰہی اپنی کار میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس مشتاق حسین کو ان کے گھر چھوڑنے جارہے تھے ان کے ہمراہ سینئر ماہر قانون ایم اے رحمن ایڈووکیٹ بھی سفر کررہے تھے جنہوں نے بھٹو کے مقدمہ قتل میں پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دیئے تھے۔ دوپہر دو بجے کے وقت جب ان کی کار ماڈل ٹائون میں نرسری چوک کے قریب پہنچی تو ایک نامعلوم شخص نے کار پر دستی بم پھینکا اور چار نامعلوم افراد نے اسٹین گن سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں چوہدری صاحب اور ان کے ڈرائیور نسیم موقع واردات پر جاں بحق ہوگئے۔ جسٹس مشتاق حسین کو معمولی زخم آئے جبکہ جناب ایم اے رحمن محفوظ رہے۔بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری میر مرتضیٰ بھٹو نے قبول کرلی اور کہاکہ یہ ان کی تنظیم الذوالفقار کا کارنامہ ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد 20 نومبر 1981ء کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں لالہ اسد نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا جس پر الزام تھا کہ وہ چوہدری ظہور الٰہی کے قاتلوں میں شامل تھا۔ اس کے بعد حکومت نے الذوالفقار کے کئی سو تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جن میں رزاق جھرنا نامی ایک دہشت گرد پر چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے 7مئی 1983ء کو موت کی سزا دے دی گئی۔

UP